عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۰
(Sachidanand Pandey) تھے، وہ پاپا کو بہت زیادہ مانتے تھے۔ ابھی تک پاپا ان کی بات بتا کر انھیں یاد کرتے تھے۔ اس زمانے میں اے سی آر (ACR) ڈی ایم لکھا کرتا تھا۔ پاپا سے وہ اتنا خوش رہتے تھے کہ انھوں نے پاپا کے لیے جو اے سی آر لکھا، اتنا اچھا اے سی آر کسی نے نبیس لکھا۔ جب 1997 میں جنتا پارٹی کی حکومت آئی تو اُس وقت کے اسٹیٹ منسٹر نے کچھ لڑکوں کا داخلہ کرانے کے لیے اُن کے پاس بھیجا۔ ان لڑکوں کے مارکس داخلے کے لیے کافی نہ تھے۔ اس کو پاپا نے سختی سے رد کر دیا اور لڑکوں کا داخلہ نہیں لیا۔ اس وجہ سے منسٹر صاحب اتنے ناراض ہوئے کہ انھوں نے پاپا کے ٹرانسفر کا آرڈر لکھوا دیا۔ آرڈر کو ٹائپ کراکے وہ کیبنٹ منسٹر کے ساتھ فیض آباد آئے، جب پاپا نے کیبنٹ منسٹر سے اپنے خلاف شکایت سنی تو انھوں نے بھری محفل میں کیبنٹ منسٹر کو، اسٹیٹ منسٹر صاحب کی ساری باتیں بتائیں کہ انھوں نے یہ کیا اور یہ کیا اور بغیر اجازت کے بچوں کے ہاسٹل میں جاکر اُن کو میرے خلاف بھڑکا یا۔ پاپا پندرہ سے ہیں منٹ تک منسٹر صاحب کے خلاف بولے۔ جب کیبنٹ منسٹر کو ساری باتیں معلوم ہوئیں تو وہ ناراض ہوئے اور انھوں نے لکھ دیا کہ خان صاحب فیض آباد سے نہیں جائیں گے، وہ یہیں رہیں گے۔ اس طرح وہ پھر 5 سال فیض آباد میں رہے۔ جب وہ فیض آباد سے گئے ہیں، اُس وقت وہ یوپی کا سب سے اچھا پالی ٹیکنیک مانا جاتا تھا۔ اسی طرح پاپا زیادہ تر اس جگہ بھیجے جاتے جہاں ڈسپلن (discipline) نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہ بہت پریشان ہوتے اور کبھی کبھی ہمت بھی ہار جاتے۔ مگر پھر بڑے ابا (مولانا وحید الدین خاں) کو خط لکھ کر پوچھتے، ان کے خط کو وہ ابھی تک سنبھال کر رکھتے تھے۔ (بڑے ابا ہی کی کتابوں کو پڑھ کر پاپا آخر وقت میں اتنے دین دار ہو گئے تھے کہ ان کو دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اسی کو سچا مومن اور اللہ کا حقیقی بندہ کہتے ہیں)۔ اس طرح پھر وہ سنبھل کر اپنی ہمت کو بڑھاتے تھے اور ہمیشہ کامیاب ہوئے۔ یہاں اس سلسلے میں پاپا کے نام بڑے ابا کے دو خطوط نقل کئے جاتے ہیں:
برادرم سلام مسنون اس سے پہلے ایک خط لکھ چکا ہوں ۔ امید کہ ملا ہو گا۔ تمھارے خط میں جس پریشانی کا ذکر تھا،