Al-Risala · May 2012 · page 61

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۱

اس کی وجہ سے دل برابر تمھاری طرف لگا رہا اور تمھارے لئے دعائیں کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے اور تمھارے مسائل کو حل کر دے۔

تمھاری اصل مشکل تمھاری معیار پسندی (idealism) ہے۔ تمھاری خواہش یہ رہتی ہے کہ لوگ صحیح طریقہ سے رہیں اور ٹھیک کام کریں۔ یہ خواہش اچھی ہے۔ مگر اس میں اپنے آپ کو اتنا زیادہ involve کر دینا ٹھیک نہیں ہے کہ خود اپنی صحت و عافیت بھی خطرہ میں پڑ جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرو۔ مگر جب دیکھو کہ تمھاری کوشش کے باوجود لوگ اصلاح نہیں قبول کر رہے ہیں تو تم خود اپنی فکر کرو: فإذا رأيت شحاً مطاعاً، وهوى متبعاً، وإعجاب كل ذي رأي برأيه، فعليك نفسك، ودع عنك أمر العوام۔ یعنی جب تم دیکھو کہ لوگ حرص کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ہر شخص اپنی ہی رائے کو ٹھیک سمجھتا ہے تو اپنے آپ کو بچاؤ اور لوگوں کو چھوڑ دو۔

میرا خیال ہے کہ اس حدیث میں تمھارے لیے بڑی نصیحت ہے۔ تم بس اسی کو پکڑ لو۔ جتنا وقت تم لوگوں کے لئے کڑھنے میں لگاتے ہو، اس کو نماز، مطالعہ قرآن اور اسلامی کتابوں کے پڑھنے میں لگاؤ، یہ تمھاری دنیا و آخرت کے لیے زیادہ مفید ہوگا۔

آج کا انسان اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ وہ کچھ سننے کے لئے تیار نہیں۔ لوگوں کے سوچنے کی سطح اُس سے بالکل مختلف ہے جو ہماری ہے۔ اس لئے ہماری کوئی بات ان کے دماغ میں بیٹھتی ہی نہیں۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ اس کے بعد ہر آدمی کو آخرت کا سفر کرنا ہے، پھر لوگوں کے پیچھے بے فائدہ کڑھنے میں اپنا وقت کیوں ضائع کیا جائے۔ کیوں نہ اس وقت کو اپنی آخرت کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ترقی یا اضافہ تنخواہ وغیرہ کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا چھوڑ دو۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ اس لئے غم میں پڑ کر آدمی صرف اپنے کو ہلکان کرتا ہے۔ وہ مقدر کو بدل نہیں سکتا۔

مزید یہ کہ جن لوگوں کی بڑی بڑی تنخواہیں ہیں، ان میں سے کسی کو میں نے خوش نہیں دیکھا۔ لیبیا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page