Al-Risala · May 2012 · page 62

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۲

میں، بہت سے ایسے لوگوں سے قریبی تعلق رہا جن کی تنخواہیں 8 سے 10 ہزار روپے مہینہ تھیں۔ مگر سب اندر سے سخت قسم کے ذہنی تناؤ (frustration) میں مبتلا تھے۔ وہ مجھ کو رشک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جب کہ میری سرے سے کوئی آمدنی ہی نہیں۔ سارا معاملہ اللہ تو کل ہے۔

حال میں لیبیا کا ایک باشندہ ہندوستان آیا تھا اور یہاں ناز ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ وہ مجھ سے ملا اور نہ صرف لیبیا بلکہ تمام عرب ملکوں کو لعن طعن کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ ہندوستان میں جھونپڑی میں رہنا اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں عرب ملک میں کوٹھی میں رہوں۔ طرابلس میں مجھے کئی لوگ ملے جو اتنے پریشان تھے کہ جہنم کا ڈر نہ ہو تو خود کشی کر لیں۔ اصل یہ ہے کہ جو مقام آدمی کو ملا نہیں رہتا، اس کو دور سے وہ اچھا دکھائی دیتا ہے اور جب وہ مل جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو نیا عذاب ہے۔ تم کو میری مخلصانہ نصیحت ہے کہ تم حالات کو اپنی رفتار پر چھوڑ دو، جس طرح دوسرے پرنسپل چھوڑے رہتے ہیں۔ بس ضروری حد تک اپنے فرائض انجام دو۔ تم اس قسم کی پریشانیوں کو چھوڑ کر قرآن وغیرہ پڑھنا شروع کر دو۔ نماز با قاعدہ پڑھو اور اسلامی چیزوں کا مطالعہ کرو۔

اس وقت خط لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر تمھاری پریشانی بار بار یاد آتی رہی، اس لئے لکھنے بیٹھ گیا کہ شاید کچھ فائدہ ہو۔ زندگی کا اصل راز دوسروں سے تصادم نہیں ہے، بلکہ حالات کے ساتھ adjustment ہے۔ تمھارا ذہن ہر وقت اس پر کام کرتا ہے کہ تم جس طرح ٹھیک سمجھتے ہو، اسی طرح لوگ رہیں۔ اس سوچ کو ختم کر دو۔ تم کو بحیثیت مسلمان اس طرح سوچنا ہے کہ دنیا میں مجھے تھوڑے دن کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں اپنے اور اپنے اہل وعیال کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے اور آخرت کی تیاری کرنا ہے۔ ان دو چیزوں کے سوا کسی بھی تیسری چیز کو تمھیں اہمیت نہ دینا چاہئے۔ کالج کے معاملہ میں ویسا ہی بن جانا چاہیے جس طرح دوسرے پرنسپل رہتے ہیں۔ خوب سمجھ لو کہ اصل مسئلہ اپنے آپ کو بچانا ہے، نہ کہ دوسروں کو۔ قرآن میں ہے: يا أيها الذين آمنوا قُوا أنفسكم وأهليكم ناراً۔ یعنی اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

تم جن چیزوں کے لئے کڑھتے ہو، اس کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے نہ آخرت میں۔ تم کو اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page