Al-Risala · May 2012 · page 63

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۳

دماغ کی قوتوں کو اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کے لیے لگانا چاہیے۔ دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر یہ بالفرض ضروری رہا ہو تو تم نے اپنی طرف سے اتمام حجت کر دیا ہے۔ اب اس سلسلے میں تمھاری ذمہ داری نہیں ہے۔

میرا مشورہ ہے کہ بروقت تو تم فوراً دو چیزیں شروع کر دو۔ ایک، با قاعدہ پانچ وقتہ نماز۔ دوسرے قرآن کا ترجمہ۔ ان میں کافی وقت دو۔ دفتر کا کام صرف بقدر ضرورت کرو۔ انشاء اللہ اس سے آئندہ کی راہ کھلے گی اور تمھاری مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔

اماں کی خدمت میں سلام۔ عابدہ سلمہا اور بچوں کو دعائیں دہلی، 17 مئی 1977 وحید الدین برادرم عبد المحیط سلام مسنون تمھارا خط مورخہ 24 مئی 1977 ملا۔ مجھے تمھارے بارے میں بڑی فکر تھی۔ دوبارہ خط لکھنے والا تھا کہ تمھارا کارڈ آگیا۔ یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ تم کو خدا کے فضل سے آج کل سکون ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری مدد فرمائے۔ اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور دوبارہ لکھتا ہوں کہ جیسے دوسرے پرنسپل رہتے ہیں ویسے ہی تم بھی رہو۔ تم کو اپنی جان ہلکان کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک مومن کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور ارادہً اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔

تم جانتے ہو کہ حاتم طائی فیاض و سخی تھا اور نوشیرواں بڑا عادل تھا۔ مگر حاتم طائی کی سخاوت اور نوشیرواں کے انصاف کا خدا کے یہاں کوئی وزن نہیں۔ کیوں کہ وہ خدائی نظام کے تحت نہیں تھا۔ خدا کو تو وہی چیز مطلوب ہے جو اس کے اپنے لئے کی گئی ہو۔ اپنی ضرورتوں کے لیے ہم کو ہر کام کرنے کی اجازت ہے۔ خدا کے نقطۂ نظر سے تمھاری ملازمت کسی خدائی کاز کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہے۔ تمھاری ملازمت صرف اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ جتنی فکر تم نظام کو ٹھیک کرنے کی کرتے ہو، اتنی ہی خدا کے لئے کرنے لگو تو تمھاری آخرت کے لئے ضرور فائدہ ہو، جب کہ اس کے پیچھے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page