عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۴
کو ہلکان کرنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ بعض اوقات ”نیکی‘‘ بھی محض عزت (prestige) کا سوال بن جاتی ہے۔ خیر خیرات کرنا، مذہبی اور اخلاقی باتیں کرنا، رشوت نہ لینا، خلاف قانون کام نہ کرنا، بظاہر اچھی باتیں ہیں، مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی مخصوص اسباب سے جو ایک پوزیشن ہو جاتی، اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ایسا کرے۔ وہ خدا کو خوش کرنے کے لئے نہیں، بلکہ اپنی عزت اور نیک نامی کو برقرار رکھنے کے لیے اچھا کام کرتا ہے۔ اس قسم کا عمل چوں کہ نیکی کی صورت میں ہوتا ہے، اس لئے آدمی اس کو سمجھ نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی اصل تعریف (definition) یہ ہے کہ آدمی اپنے لاشعور (sub-conscious mind) کو دیکھنے لگے۔ اس وقت وہ صحیح معنوں میں خدا کے لئے کام کر سکتا ہے۔
حدیث میں ہے: إنما الأعمال بالنيات (عمل کا دارومدار نیت پر ہے) خدا کے یہاں جو چیز دیکھی جائے گی وہ صرف یہ کہ خالص خدا کے لئے آدمی نے کیا کام کیا۔ جو کام سوچ سمجھ کر پورے ارادہ کے ساتھ خدا کے لئے نہیں تو وہ بے فائدہ ہے۔ اس کا کوئی اجر نہیں۔ مجھے امید ہے کہ تم میری باتوں پر ضرور غور کرو گے۔ عقل مند وہ ہے جو ان باتوں کو اہمیت دے جو آخرت میں اہم بننے والی ہیں۔ کسی اور بات کو اہم سمجھ کر آدمی کتنا ہی خوش ہولے۔ موت کے بعد بہر حال اس کو افسوس کرنا پڑے گا۔ اس کی مثال اندرا گاندھی کی زندگی ہے۔ اندرا گاندھی کو ہندوستان میں ڈکٹیٹر جیسا اقتدار ملا۔ اس نے سمجھ لیا کہ اہم بات وہ ہے جو اس کے ذہن میں اہم ہو۔ غیر اہم وہ ہے جو اس کو غیر اہم نظر آئے، حتیٰ کہ اندرا گاندھی کو یہ کہنے کی جرأت ہو گئی کہ ”ایمرجنسی سے پہلے کا دور اب کبھی واپس نہیں آئے گا، مگر جب فیصلے کا دن آیا تو معلوم ہوا کہ اہم کیا ہے اور غیر اہم کیا، اس کے فیصلے کا حق اندرا گاندھی کو حاصل نہ تھا۔ اس کا بنایا ہوا نظام اس طرح اچانک اڑ گیا جیسے آندھی میں تنکا۔
اسی طرح آدمی دنیا میں اپنے ذوق، اپنے حالات، اپنی دلچسپیوں کے تحت اپنی زندگی کا ایک ڈھانچہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ حق وہی ہے جو اس کو حق نظر آئے۔ یہ ذہن اس پر اتنا چھاجاتا ہے کہ یہی اس کا لاشعور بن جاتا ہے۔ وہ اپنی بنائی ہوئی اسی خیالی دنیا میں زندگی گزارتا رہتا ہے، یہاں تک