عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۵
کہ جب موت آتی ہے تو اچانک اس کو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت تو کچھ اور تھی۔ اس کی زندگی کی پوری عمارت اس طرح دھڑام سے گر جاتی ہے جیسے اس کی کوئی بنیاد ہی نہ تھی۔ اندرا گاندھی کی مثال میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک نمونہ دکھایا ہے۔ اندرا گاندھی کے واقعہ میں جو اس حقیقت کو دیکھ لے، اسی نے اندرا گاندھی کے واقعے کو جانا۔ ورنہ وہ خواہ کتنا ہی اخبار پڑھتا ہو، وہ ابھی تک اس واقعہ سے بے خبر ہے۔ جیسے ایک بے روزگار نو جوان اخبار میں "wants" کے کالموں میں گم ہو اور سارا اخبار الٹ کر بھی اس کو معلوم نہ ہو کہ اخبار میں اصل خبر کیا تھی۔ میری عادت اتنے خطوط لکھنے کی نہیں۔ مگر صرف تمھاری خاطر ایسا کر رہا ہوں۔
دہلی، 2 جون 1977 وحید الدین مجھے یاد ہے کہ کتنے اسٹاف کے لوگ ان کے خلاف ہڑتال (strike) کرتے، نعرہ لگاتے، پتلا بھی جلایا گیا، مگر پھر وہی اسٹاف کے لوگ ان کو اتنا پسند کرنے لگتے کہ وہ ان کے ٹرانسفر ہونے پر روتے تھے۔ ہر وہ جگہ جہاں ڈسپلن (discipline) نہیں ہوتا تھا، وہاں ان کے جانے پر ڈسپلن کا ماحول بن جاتا۔ اس طرح ان کا ریکارڈ اتنا اچھا ہوتا کہ ان کے اوپر کوئی انگلی نہ اٹھا سکا۔ پاپا کا ڈائرکٹر ہمیشہ ان سے ناراض رہتا، کیوں کہ وہ اس کی ساری غلط باتوں کو ناپسند کرتے اور اس کو کرنے سے منع کر دیتے ۔ اس لیے ان کا پروموشن نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن پاپا بہت سینئر تھے۔ اس طرح ان کا اچھا ریکارڈ ہونے کی وجہ سے ڈائرکٹر ان کا پروموشن روک نہیں سکتا تھا۔ مگر پاپا نے کبھی کوشش نہ کی کہ ان کا پروموشن ہو جائے۔ پاپا کی عادت نہ تھی کہ وہ ڈائرکٹر کی خوشامد کریں۔ انھوں نے کبھی کسی کے فوٹو پر ہار مالا نہیں پہنائی۔ انھوں نے ہمیشہ ایمان داری اور سچائی سے زندگی گزاری۔
کبھی بھی کوئی غلط بات جوان کا ڈائرکٹر ان سے کرنے کو کہتا، وہ اس کو نہ کرتے اور اپنے ڈائرکٹر کو باقاعدہ لکھ کر بھیج دیتے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔ اس پر ایک بار ان کے ڈائرکٹر نے کہا کہ "مسٹر خان، آپ ایسا لکھ کر بھیج دیتے ہیں کہ میں کسی کو دکھا بھی نہیں سکتا۔ بہر حال وہ 1984 میں جوائنٹ ڈائرکٹر ہوئے۔ بنارس ان کا آفس تھا۔ وہ Circuit House میں P.A. Suits میں