Al-Risala · May 2012 · page 66

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۶

رہتے تھے۔ 1995 میں پا پارٹائر ہوئے ۔ اور ریٹائر منٹ کے بعد وہ فیض آباد میں رہنے لگے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے حج ادا کیا۔ حج کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی تھی ’’ حج کیسے کریں‘‘۔ وہ اپنے خاص لوگوں کو حج کے بارے میں بتاتے تھے۔

دھیرے دھیرے وہ صرف لکھنے پڑھنے میں مشغول رہنے لگے۔ میتھ (Maths) ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ بچوں کو وہ شوق سے میتھ پڑھاتے، باقی ٹائم میں وہ بڑے ابا کی کتابیں پڑھتے جس میں ماہ نامہ الرسالہ، تذکیر القرآن ، مطالعہ قرآن، الربانیہ اور قال اللہ وقال الرسول ان کی پسندیدہ کتابیں تھیں ۔ وہ کافی کتابیں لوگوں کو دیتے ۔ بڑے ابا کے خلاف کوئی بولتا تو انھیں بہت تکلیف ہوتی۔ اکثر کہتے تھے’’ آج کل کا مسلمان جو شیلا ہے، اس کو جو شیلی باتیں ہی پسند آتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں کو بھائی صاحب (مولانا وحید الدین خاں) کی باتیں کیوں نہیں سمجھ میں آتیں ، یہ ان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔

اللہ کا شکر ہر دم ان کی زبان پر رہتا۔ وہ اکثر کہتے’’ ہم لوگ یتیم تھے، ہمارا کوئی پرسان حال نہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ہم تینوں بھائیوں کو ہر چیز سے نوازا۔ ہم لوگ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اللہ ہم لوگوں کو اتنا دے گا۔ خدا کا بہت بڑا احسان ہم لوگوں پر ہے۔ ‘‘ ہم لوگوں سے اپنے بچپن کے چھوٹے چھوٹے قصے بتاتے ، مثلاً دادی کا تکلیف سے پرورش کرنا وغیرہ، اور رو دیتے ۔ اپنی سروس کے دوران انھوں نے بڑی عزت پائی، مگر خدا کے شکر کے علاوہ کبھی کوئی ایسی بات نہ کہی جس سے کوئی بڑائی یا گھمنڈ ظاہر ہو۔ ہر چھوٹے بڑے موقع پر وہ خدا کے شکر میں ڈوب جاتے تھے۔ غریبوں کی وہ ہر طرح مدد کرتے۔ فیض آباد میں جہاں وہ رہے، اسی طرح علی گڑھ میں بھی کسی غریب کو پریشان دیکھتے تو اپنی طرف سے وہ اس کی پوری مدد کرتے ۔ انھوں نے تذکیر القرآن کو 8 بار پڑھا اور اپنے اندر ایسا بسا لیا کہ ان کا ہر کام، ہر عمل اللہ کے لئے ہوتا تھا۔ ان کا کام لکھنا اور پڑھنا تھا اور اس پر عمل کرنا۔ ان کا ہر عمل ویسا ہی ہوتا جیسا کہ اللہ نے بتایا ہے ۔ اُن کے صبر کا معاملہ اتنا زبردست تھا کہ وہ اس کے ذریعے اللہ سے بہت قریب ہوتے چلے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page