Al-Risala · January 2020 · page 11

لعظ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۱

اسی طرح قرآن میں ہے : فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ( 25:70)۔ یعنی اللہ اُنکی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اس کی تشریح آپ ان لفظوں میں کریں کہ خدا آدمی کے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ تشریح بآسانی جدید ذہن کے لیے قابل فہم ہو جائے گی۔ اسی طرح عورت اور مرد کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195)۔ یعنی تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ اگر اس کی وضاحت آپ ان الفاظ میں کریں تو آج کا انسان فورا اس کی حقیقت کو پالے گا کہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (supplement) ہیں ، نہ کہ ایک دوسرے کا مثنی (counterpart)۔

مولانا اسعد اسرائیلی سنبھل کے رہنے والے ہیں ۔ ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی ، اور دوران گفتگو ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کا ذکر ہوا۔ وہ الرسالہ کے اس نقطہ نظر سے متفق ہیں کہ یہ فسادات داعی اور مدعو کے رشتہ کو مجروح کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا : ” فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمان نہیں مرتے ، جو چیز مرتی ہے ، وہ دعوت حق کا امکان ہوتا ہے۔ “ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑا ہے ، اس میں مسلمان صرف اپنے مادی نقصانات کا رونا روتے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے دونوں قوموں کے درمیان معتدل فضا ختم ہوگئی ہے، اور معتدل فضا کے بغیر دعوتی عمل ممکن نہیں۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوت کا درد ہو ، تو وہ ہندوؤں سے اپنے تمام مادی جھگڑے یک طرفہ طور پر ختم کر دیں گے۔ وہ اپنے اور ہندوؤں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنے کے لیے ہر قربانی کو آسان سمجھیں گے۔

مسلمان ساری دنیا میں وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (البقرۃ، 2:61) کا مصداق

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page