لعظ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۰
ریڈ برش [1878-1949] Gustav Radbruch) اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ مطلق قانون قابل دریافت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قابل مظاہرہ نہیں : Absolute judgments about law are not discoverable, that is to say, not demonstrable. یہ نظریہ قانون کانٹ کے فلسفہ سے نکلا ہے۔ کانٹ نے دکھایا ہے کہ ہم صرف جان سکتے ہیں کہ ”کیا ہے“، ہم ” کیا ہونا چاہیے“ کو دریافت نہیں کراسکتے۔ چنانچہ گسٹاؤ ریڈ برش کا کہنا ہے کہ مطلوبہ قانون بذریعہ اعتراف(confession) اختیار کیا جاسکتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ علمی طور پر معلوم (scientifically known) ہے۔ موجودہ زمانہ میں قانون، زبردست کوشش کے باوجود قانون کے معیار(legal norms) کی تلاش میں ناکام ہو چکا ہے۔
اسلام پر روایتی عقیدہ کافی نہیں۔ اسلامی تعلیمات کو جب آپ روایتی الفاظ میں بیان کرتے ہیں، تو وہ صرف روایتی عقیدہ کے طور پر ذہن میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب اس کو وقت کی زبان میں بیان کیا جائے تو وہ سننے والے کی نفسیات کا جزء بن جاتا ہے۔ ایک ناقابل فہم منتر آپ کسی کو یاد کر سکتے ہیں، مگر ایسا منتر آدمی کی نفسیات میں شامل نہیں ہوگا۔ وہ بس اوپر اوپر رہے گا، اور کوئی عقیدہ جب تک نفسیات میں شامل نہ ہو، وہ آدمی کے اندرون کو نہیں جگاتا، وہ اس کی قوت محرکہ نہیں بنتی۔
اسلامی تعلیمات کو وقت کے اسلوب میں بیان کرنے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مثلاً سورہ عنکبوت (آیت 2) میں ہے کہ خدا صرف آمنا (ہم ایمان لے آئے) کہنے پر آدمی کو نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ وہ اس کی آزمائش کرتا ہے۔ اگر آپ آیت کا صرف ترجمہ کر دیں، تو وہ جدید ذہن کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ مگر جب آپ اس کو ان الفاظ میں بیان کریں کہ آدمی نارمل (normal) حالات میں جو کچھ کرتا ہے، اس پر اللہ کے یہاں فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ اس عمل پر ہوگا جو وہ ابنارمل (abnormal) حالات میں کرتا ہے، تو وہ فوراً جدید انسان کی سمجھ میں آ جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues