Al-Risala · January 2020 · page 12

لعظ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۲

ہورہے ہیں۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی۔ کوئی کوشش اور کوئی تدبیر ان کو اس حالت سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ شاید یہ امت اس سنت الہی کی زد میں آگئی ہے، جس میں اس سے پہلے یہود آئے تھے۔ یہود اس لیے مغضوب ہوئے کہ کتاب الہی کے حامل ہونے کے باوجود، انھوں نے حق کی گواہی نہیں دی۔ انھوں نے اس کا کتمان کیا۔ مسلمانوں کا حال بھی اب یہی ہو رہا ہے۔ ان کو خدا کی آخری وحی دی گئی تھی، اور حکم ہوا تھا کہ جس طرح رسول نے اس امانت کو تمھارے پاس پہنچایا ہے، اسی طرح تم قیامت تک اس کو تمام قوموں تک پہنچاتے رہو۔ مگر امت نے صدیوں سے اپنی اس ذمہ داری کو چھوڑ رکھا ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ذلت اور مسکنت کا سبب یہی ہے۔ ان کو ذلت اور مسکنت سے نکالنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ ان کو دوبارہ داعی گرواحد کی حیثیت سے اٹھایا جائے، اور حق کا پیغام تمام بندگانِ خدا تک ان کی اپنی قابل فہم زبان میں پہنچایا جائے۔ یہی وہ عمل ہے، جو مسلمانوں کو دوبارہ نصرتِ الہی کا مستحق بناسکتا ہے، اور ان کو دنیا اور آخرت میں سرفراز کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے آج ہمارے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ پچھلے تمام زمانوں سے زیادہ موثر شکل میں اس مہم کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف پٹرول ڈالر کے خزائن نے مسلمانوں کو اس پوزیشن میں کر دیا ہے کہ وہ اس کام کو اعلیٰ ترین سطح پر کرنے کی بڑی سے بڑی قیمت دے سکیں ۔ دوسری طرف جدید دریافتوں نے حیرت انگیز طور پر اسلام کے ان تمام معتقدات کے لیے خالص سائنسی دلائل فراہم کر دیے ہیں، جن پر پچھلے زمانوں میں صرف قیاسی بحثیں کی جاسکتی تھیں۔ اگر ان دونوں امکانات کو دعوتِ حق کی مہم میں استعمال کیا جائے، تو اظہارِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے خواب کو عالمی سطح پر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

تامل ناڈو کے علاقہ میں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ وہاں کے ایک نومسلم سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے اور عام مسلمانوں کے درمیان کس قسم کا فرق پاتے ہیں۔ مذکورہ نومسلم

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page