Al-Risala · January 2020 · page 46

(Preceding) ہو چکا ہے

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۴۶

(اڑیسہ) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ایک اڑیا انسائیکلوپیڈیا تیار کی ہے، جو 75 جلدوں میں مکمل ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کام انھوں نے اپنی تنہا محنت سے 30 سال میں مکمل کیا ہے۔ مسٹر بنود کانون گو جب نوجوان تھے تو ان کے کان میں مہاتما گاندھی کی پکار آئی۔ کوئی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، اور بنیادی تعلیم ہی حقیقی تعلیم ہے۔

No nation grows without education, and basic education is real education. ان الفاظ سے مسٹر بنود کانون گو کے اندر شدید جذبہ ابھرا۔ انھوں نے اڑیا زبان میں انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کی مہم شروع کردی۔ یہاں تک کہ 30 سال کی مسلسل محنت کے ذریعہ اس کو کامیابی تک پہنچا دیا۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسٹر بنود کانون گو نے اس مہم میں اڑیسہ کی ریاستی حکومت اور نئی دہلی کی مرکزی حکومت سے مدد کی درخواست کی۔ مگر ان کو نہ ریاستی حکومت سے کوئی مدد ملی، اور نہ مرکزی حکومت سے۔ اس کے باوجود مسٹر بنود کانون گو نے اپنے محدود ذرائع سے کام لیتے ہوئے اپنی مہم جاری رکھی، یہاں تک کہ اس کو اختتام تک پہنچا دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جو کسی قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔ قومی تعمیر کا کام ہمیشہ انفرادی قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اس کے سوا قومی تعمیر کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ لوہا لوہے کو آگ میں ڈال کر تپاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوہا گرم ہو کر لال ہو جاتا ہے۔ اس وقت لوہار ہتھوڑا مار کر لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بناتا ہے، چپٹا یا گول یا لمبا۔ لوہا را گر لوہے کو گرم کیے بغیر اس پر اپنا ہتھوڑ امارنے لگے تو وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے میں کامیاب نہ ہو۔ اسی سے انگریزی کی یہ مثل بنی ہے کہ لوہے کو اس وقت مارو جب کہ وہ خوب گرم ہو: To strike the iron when it is hot. یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ آدمی کو زندگی میں اکثر کوئی اقدام کرنا پڑتا ہے۔ مگر اقدام سے پہلے ضروری ہے کہ حالات کا بھر پور اندازہ کر لیا جائے۔ اگر حالات پوری طرح تیار ہوں،

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page