Al-Risala · January 2020 · page 48

Hitting the nail on the head.

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۴۸

یہ مثل بہت بامعنی ہے۔ زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں، جب کہ آدمی کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ مگر وہ پسپائی نہیں ہے، جو منصوبہ بند ہو۔ یعنی آدمی پیچھے ہٹنے کے لیے قدم پیچھے نہ کرے، بلکہ اسی کا پیچھے ہٹنا آگے بڑھنے کی ایک تدبیر ہو۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹے، تو اس لیے پیچھے ہٹے کہ اس کے ذریعہ اس کو دو قدم آگے بڑھنے کا راستہ ملے گا۔

قدیم عرب شعرا کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں، جن میں بڑی حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً: سبكناه ونحسبه لجينـاً فأبدى الكير عن خبث الحديد یعنی ہم نے اس کو پگھلایا، اور اس کو چاندی سمجھتے تھے، مگر بھٹی نے ظاہر کیا کہ وہ زنگ آلود لوہا ہے۔

اس شعر میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ انسان بظاہر اچھا دکھائی دیتا ہے، مگر جب تجربہ ہوتا ہے، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا ہے، اور کون کیا نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شعر یہ ہے:

وكم على الأرض من خضر ويابسة وليس يرجم إلا ماله ثمر یعنی زمین پر کتنی ہی تر اور خشک چیزیں ہیں، مگر پتھر اسی پر مارے جاتے ہیں جس میں پھل ہوں۔

اس شعر میں شاعر زندگی کی اس حقیقت کو بتاتا ہے کہ جس انسان کے پاس کچھ ہو، اس کے اوپر لوگ یورش کرتے ہیں، جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے اوپر کوئی یورش نہیں کرے گا۔ قدیم عربوں کے نزدیک سب سے بڑی انسانی صفت حماسہ تھی، یعنی بہادری۔ اس بہادری کا اظہار قدیم عرب میں سب سے زیادہ لڑنے بھڑنے میں ہوتا تھا۔ ایک حماسی شاعر کہتا ہے: إذا المهرة الشقراء أركب ظهرها فشب الإله الحرب بين القبائل

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page